اِک بحرِ پرآشوب و پراسرار ہے رومی

یہ تحریر 134 مرتبہ دیکھی گئی

پیش گفتار

این میری شمل: چند باتیں

ڈاکٹر این میری شمل (۷/ اپریل ۲۲۹۱ء – ۷۲/ جنوری ۳۰۰۲ء) کا شمار ممتاز خاور شناسوں میں ہوتا ہے۔ ان کی تحریروں کا تنوع حیران کن ہے۔ انھوں نے جرمن، انگریزی اور ترکی زبانوں میں کثیر علمی کارنامے انجام دیے۔ وہ مسلم تصوف اور شاعری کے باب میں متخصص کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ انھوں نے دنیا کی متعدد جامعات میں مسلم ثقافت اور شاعری کے موضوع پر لیکچر دیے۔ اپنی اس حیرت انگیز علمی تگ و تاز کے باعث انھیں دنیاے ادب و عرفان میں دیر تک یاد رکھا جائے گا اور ان کی بعض علمی نکتہ طرازیاں اہلِ علم سے خراج توصیف وصول کرتی رہیں گی۔
شمل کی ولادت ایک ایسے پرشین (Prussian) گھرانے میں ہوئی جہاں علم دوستی، آزادی اظہار، احساس فرض اور پابندی اوقات کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ بچپن ہی میں ان کی آیندہ کی راہیں متعین ہوگئی تھیں۔ جرمن زبان میں ۰۷۸۱ء کی شایع شدہ پریوں کی کہانیوں میں سے ایک نے ان کی آیندہ منزل کی ہلکی سی جھلک دکھا دی تھی اور انھیں اندازہ ہو گیا تھا کہ ان کی یہ منزل ”مشرق“ ہے ¾ وہ مشرق جو دانشِ عرفانی کا مرکز رہا ہے۔ ہند مسلم ثقافت سے شمل کے گہرے شغف کی بنیادیں بھی انھیں کہانیوں سے پڑیں۔
شمل کی ولادت جرمنی کے ایک خوب صورت تجارتی قصبے ارفرٹ میں ہوئی۔ یہیں ایک عرصہ قبل گوئٹے کی نپولین سے ملاقات ہوئی تھی۔ شمل کا بچپن اِسی ڈیڑھ لاکھ کی آبادی کے قصبے میں گزرا جس کے خوش نما باغوں سے انھوں نے اپنے مشام جاں کو معطر کیا۔ اسکول کے زمانے میں بھی شمل کو جانوروں کی کہانیوں اور مشرق کے بارے میں قصوں کے مطالعے کے سے گہرا شغف رہا۔ یہ کہنا بے محل نہ ہوگا کہ شمل جرمنی کی اس مشرقی تحریک سے خصوصاً اثر پذیر ہوئیں جن کے نمایندوں میں ایک نمایاں نام فریڈرخ ریوکرٹ (۸۸۷۱ء-۶۶۸۱) کا ہے اور جس کے دیگر نمایاں دانش وروں میں گوئٹے، ہائنے اور رلکے وغیرہ کے نام آتے ہیں۔ شمل کے خیال میں حضور اکرمﷺ کی بعثت کا جیسا بالغ شعور رلکے کو تھا، مشکل ہی سے اور شعرا کو رہا ہوگا۔ اس کا اظہار اس کی نظم ”منصبِ محمدﷺ“ سے ہوتا ہے۔
ابتدائی تحصیل علم کے بعد شمل برلن چلی آئیں جہاں انھوں نے رچرڈ ہارٹمین کی زیرِ نگرانی برلن یونیورسٹی سے ۹۱ برس کی عمر میں پی ایچ۔ ڈی کیا۔ شمل نے اپنے استاد ہنرخ شیڈر سے بھی گہرے اثرات قبول کیے۔ شیڈر گوئٹے کا عاشق تھا اور اس کے دیوانِ شرقی و غربی پر اس کی تحقیقات بڑی قابلِ قدر تھیں۔ شیڈر کا تعلق لوتھر الہٰیین کے خانوادے سے تھا۔ شمل لکھتی ہیں کہ ایک بار اس نے مجھ سے کہا ”ایک اچھے پروٹسٹنٹ کی حیثیت سے صرف دو صورتیں ہی ممکن ہیں یا تو آدمی مسلمان ہو جائے یا کیتھولک۔“ بالآخر اس نے موخرالذکر کا انتخاب کیا۔ اسی استاد نے شمل کو جان ڈن اور مسلم شعرا کے مابین استعاراتی اور اسلوبی مماثلتوں کی طرف مایل کیا جب کہ پروفیسرکیونل نے انھیں مسلم تخلیقی فنون کی اہمیت سے آگاہ کیا اور خصوصاً مسلم خطاطی اور مسلم منیاتورکی طرف ان کی توجہ مبذول کی۔
رومی سے شمل کی قلبی وابستگی کی داستان طویل ہے۔ اس کا آغاز اسکول کے زمانے سے ہوا جب دیوان شمس سے منتخب ریوکرٹ کے جرمن تراجم ان کی نظر سے گزرے۔ دوسری جنگِ عظیم میں ۵۴۹۱ء میں جب وہ اپنے خاندان کے ساتھ برلن سے نکلیں تو ان کا اثاثہ صرف ایک سوٹ کیس تھا جس میں عہد نامہئ جدید، شیڈر کا عطا کردہ دیوانِ شرقی و غربی، ّسراج کی کتاب اللمع اور مثنوی معنوی کے تین موٹے دفتر تھے۔ ترکی میں اپنے پانچ سالہ قیام (۴۵۹۱ء – ۹۵۹۱ء) کے دوران میں، جہاں ان کا تقرر تاریخ ادیان کے پروفیسر کے طور پر ہوا تھا، رومی سے ان کی وابستگی نے عشق کا درجہ اختیار کرلیا۔ قونیہ میں حاضری معمول بن گئی۔ ترکی ہی میں ان کا نام ”جمیلہ“ پڑا، شاید اس کا محرک مسلم فنونِ جمیلہ کے ساتھ ان کی غیرمعمولی وابستگی رہی ہو یا ”اَللّٰہ جَمِیْلٌ و یُحِبّ الْجَمَال“ کا ارشاد اس نام گزاری کا سبب بنا ہو۔ رومی سے شمل کے غیر معمولی لگاؤ کا ثمر اُن کے وہ تراجم ہیں جو انھوں نے دیوانِ شمس تبریز کے منتخب کلام سے کیے۔ رومی پر جو متعدد کتابیں شمل کے قلم سے نکلیں ان میں The Triumphal Sun (آفتابِ ظفر مند) خصوصی اہمیت کی حامل ہے جس کی ”پیش گفتار“ کا ترجمہ آیندہ صفحات میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مذکورہ کتاب شمل کی گہری نکتہ طرازی اور معنی آفرینی کی مظہر ہے۔ حسن لاہوتی نے اس کتاب کا فارسی ترجمہ ”شکوہِ شمس“ کے نام سے اولاً ۸۸۹۱ء میں شایع کیا۔ اب تک اس کے چار ایڈیشن شایع ہو چکے ہیں۔ پانچ سو چودہ صفحات پر مشتمل انگریزی میں لکھی گئی رومی پر یہ عالمانہ کتاب اردو میں ترجمہ ہونے کی متقاضی تھی سو میں نے اس کا آغاز اپنے قیامِ ایران کے آخری سال میں کر دیا تھا۔ دیکھیے تکمیل کب ہوتی ہے۔
شمل نے نبی اکرمﷺ، مسلم خطاطی، مسلم تصوف، اقبال، منصور حلاج، فارسی شاعری، میر درد، بھٹائی، غالب، سچل سرمست، برعظیم پاک و ہند، علم الاعداد، جرمن مستشرقین، ترکی اور متعدد دیگر موضوعات پر جو کتابیں اور مضامین لکھے وہ ان کی رنگارنگ علمی دل چسپیوں کی قوی برہان مہیا کرتے ہیں۔ ان کے ممتاز سویس شاگرد جے۔ سی بیورگل نے شمل کو ”لکھنے والی مشین“ قرار دیا ہے کیوں کہ وہ روزانہ تیس یا شاید اس سے بھی زیادہ صفحات لکھا کرتی تھیں۔ ایسی کثرت نویسی کی قیمت بہ ہر حال ادا کرنا پڑتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اپنی بعض کتابوں میں کئی جگہ شمل نے اداے مطالب اور فہم متون میں بڑی ٹھوکریں کھائی ہیں۔ کہیں کہیں تراجم میں ان سے فاش غلطیاں ہوئی ہیں۔ ان کی تحریریں متقاضی ہیں کہ ان کا گہری تنقیدی نظر سے جائزہ لیا جائے۔
مغربی مستشرقین میں این میری شمل کا ایک امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے مشرقیات کا غیر جانب دارانہ اور منصفانہ انداز میں مطالعہ کیا ہے۔ شمل ۷۶۹۱ء سے ۲۹۹۱ء تک ہارورڈ یونیورسٹی میں ہند اسلامی کلچر کی پروفیسر رہیں۔ انھوں نے جنوبی ایشیا کے مطالعات کے باب میں اہلِ یورپ کو اسلام کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ اسلام اور مسلم ثقافت سے اسی غیرمعمولی لگاؤ کا نتیجہ تھا کہ انھوں نے سلمان رشدی کے ناول ”شیطانی آیات“ کے خلاف مسلمانوں کے ردِّ عمل کی ہمدردانہ وضاحت کی۔ نام نہاد ”روا دار“ اہلِ یورپ کو شمل کی یہ ہم دردی اور انصاف پسندی ایک آنکھ نہ بھائی اور دو سو سے زیادہ جرمن اور یورپی مصنّفین، پبلشروں اور دانش وروں نے شمل کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ اس احتجاج اور پراپیگنڈے کا سرغنہ جرمن ناول نگار گنٹرگراس تھا۔ شمل اس ناروا ردِّ عمل پر بڑی دل گرفتہ رہیں۔
پیشِ نظر ترجمے میں اصل متن کی دیانت دارانہ پیروی کی گئی ہے۔ کہیں کہیں حسنِ لاہوتی کے ترجمے ”شکوہِ شمس“ سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ متن میں موجود وضاحت طلب مقامات پر حواشی لکھے گئے ہیں۔ جہاں جہاں قرآنی آیات کا انگریزی ترجمہ دیا گیا ہے، اردو ترجمے میں اُن کے اصل عربی متون مع حوالہ درج کیے گئے ہیں اور ان کے اردو ترجمے حواشی میں درج کیے گئے ہیں۔
(شمل پر لکھے گئے اس تعارف نامے میں شمل کی آپ بیتی Orient & Occident، محمد اکرام چغتائی اور برزین کے واغمرکی مرتبہ کتابیاتِ این میری شمل (بہ زبان انگریزی) اور اپنی بعض یادداشتوں سے مدد لی گئی ہے)۔

جاری ہے۔۔۔۔۔