اوراق گم گشتہ

یہ تحریر 124 مرتبہ دیکھی گئی

بچپن کے دوست پرویز کلیم کی بازیافت: شاہ حسین کالج وہ پہلا ادارہ تھا جہاں میں نے ۱۹۷۰میں اُس وقت ملازمت شروع کی تھی کہ جب میرا ایم-اے کا رزلٹ نہیں آیا تھا اور میں ابھی اپنامقالہ لکھنے میں مصروف تھااس کالج کی ایک تاریخی حیثیت ہے کہ اُس دور میں یہ ادارہ لاہور کی علمی،تعلیمی ادبی،تہذیبی ،ثقافتی زندگی کا مرکز ومحور تھا-یہ اُس دور میں لارنس روڈ کی ایک وسیع کوٹھی میں قائم تھااوراس کے پڑوس میں اپنے دور کےمقبول اخبار روزنامہ“آزاد” کا دفتر تھا- یہ کالج معروف اساتذہ پروفیسرمنظور احمد، ایرک سپریئن اور امین مغل نے قائم کیا تھا اور ڈاکٹر نذیر احمداور صوفی غلام مصطفئ تبسم جیسے لیجنڈ اساتذہ اس کی مجلس منتظمہ میں شامل تھے-اےآر رحمان ،نثارعثمانی،حبیب جالب اکثر و بیشترشام کے اوقات میں کالج میں دوستوں سےملاقات کے لئے آیا کرتے تھےیہاں تقاریب میں معروف ترقی پسند دانشوروں کےعلاوہ فیض احمد فیض جیسےعظیم و با کمال شاعر بھی شرکت کیا کرتےتھے-بات ذراطویل ہو رہی ہے ، کہنا یہ چاہتا تھا کہ اسی کالج کے ایک مایہ نازسپوت، میری اولین کلاس کےشاگرد خاور نعیم ہاشمی نےجو اب کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں اپنے وٹسپ گروپ کے ذریعے میرےبچھڑے قدیم دوستوں سے مجھے ملوادیا ہےان ہی دوستوں میں سےایک یکتاومعروف ادیب،کہانی نویس، ہدایت کاراورفلم پروڈیوسر پرویز کلیم بھی ہیں- پرویز اور میں ہیپی کنڈرگارٹن سکول ساندہ کے پرائمری کے کلاس فیلو اور بچپن کے دوست ہونے کے علاوہ ساندہ میں قریب قریب ہی رہتے تھے ، ایک دوسرے کے گھروں میں شب و روزآنا جانا تھا مگر برا ہوروزگار کےبکھیڑوں کا کہ بعد میں بقول فراق-ایک کو ایک کی خبر منزل عشق میں نہ تھی! خاور نعیم نے مجھے پرویز کلیم کا فون نمبربھی دیا اور بس پھر کیا تھابھرائی ہوئی آواز میں ہماری باتیں شروع ہوئیں اور ہوتی رہیں اور اب ان شآلللہ ہوتی ہی رہیں گی-ایک بات یہ کہ میں پرویز کلیم کی موجودہ ہیئت کذائی کی تصویر(جوش کے بقول موقع ہوتو ہر بت کوخداکہنےوالی)دیکھ کر تھوڑا پریشان تھا مگر بات کی تو پتہ چلا کہ یہ تووہی اپنا بچپن والا”پرویز” ہی ہے فون پر بات کے بعد پرویز نےمجھےجذبات سے بھرپور پیغام بھیجاجو میں یہاں نقل کر رہا ہوں:

“آپکی آواز سنکر بہت اچھالگا- میرے خیال کو پر لگ گئے اورمیری سوچ ھیپی ھائی سکول کے کمرے اور دالانوں میں پھرسے اپنا بچپن تلاش کرنےلگی😂😂آپ سلامت رھیں”۔

پرویزنے خاور نعیم کا شکریہ ان الفاظ میں ادا کیا- Pervez kalim. “شکریہ خاور نعیم ہاشمی صاحب آپ کی بدولت 60 برس بعد پروفیسر مظفر عباس کا مجھےفون آیا۔سمجھیئے پیرانہ سالی میں میرا بچپن لوٹ آیا-پروفیسرمیرے کلاس فیلو ھیں، ھمارا بچپن ساتھ گذرا ھے-“۔

میں یہاں اپنی بات استاد ذوق کے اس شعر پر ختم کرتا ہوں؀
اے ذوقؔ کسی ہمدم دیرینہ کا ملنا
بہتر ہے ملاقات مسیحا و خضر سے