اندھیرے کا پتھر

یہ تحریر 114 مرتبہ دیکھی گئی

اندھیرے کا پتھر
اندھیرے کے پتھر کے پیچھے اُدھر غار میں اک ستارے کا گھر
ستارے کے گھر میں مسافر ہوں مَیں
مرے پاؤں میں آسمانوں کا زینہ، جو ٹوٹا ہوا ہے
خدا کی قسم
خدا پھُول ہے روشنی کا تو اس پھُول پر یہ اندھیرے کا پتھر بھی ہم نے رکھا ہے

٭٭٭