امر

یہ تحریر 131 مرتبہ دیکھی گئی

کئی سال ہوئے میری زندگی
خزاں آلود ویران سڑکوں،
پتھروں سے بنی تاریک خالی گلیوں،
سنسان جنگلوں
اور جاڑے میں جمتے کالے دریاؤں کے کنارے گزر رہی ہے
وہی دریا جن میں میں نے
عقیدتوں میں باندھے کئی تعویز سمجھوتے کے نام پر بہا دیے
وہی سڑکیں جنکی ویرانی کے سپرد میں نے
محبتوں میں باندھے کئی وعدے کیے
وہی گلیاں جنکے پتھروں پہ میں نے
خواہش کی ہر شکل توڑ دی
وہی جنگل جسکی خاموشی میں میں نے
ہر صدائی کی دعا دفنا دی
مگر کالے دریا اکثر مجھے آئینہ دکھانے آتے ہیں
جس میں یادشاتوں سے ابھرتے چہروں کے نقشے بنتے ہیں
پھر موسمی بارشوں کا کوئی ریلا آتا ہے
اور سبھی گزشتگان کو پلک جھبپکے بہا لے جاتا ہے
پھر تنہائی کے ساحلوں پر میرے پیر
ہونیوں کی باقیات سے ٹکراتے ہیں
کچھ وجود مخملیں احساس بخشتے ہیں
باقی کے اسباب پاؤں میں خار کی طرح چبھتے ہیں
ننگے پاؤں زندگی گزارنا آسان نہیں
کہ روح کی فنا کا عمل کہتے ہیں
پاؤں کے انگونٹھے سے شروع ہو گا
جان نکلنے کا منظر نامہ جتنا بھی ہولناک ہو
کچھ روحیں کبھی فنا نہیں ہوتیں
اور بے چینی ان میں پناہ ڈھونڈ لیتی ہے