امریکا میں ساٹھ دن

یہ تحریر 161 مرتبہ دیکھی گئی

ساتواں صفحہ:

چلئے رام کہانی پھر سے شروع کرتے ہیں۔  میں اپنی گزشتہ قسط میں امجداسلام امجد صاحب  سےاپنے اشتراکات میں میں ایک اہم بات لکھنا بھول گیا تھا اور وہ یہ کہ ہم  کالج فیلو بھی ہیں امجد بھائی اوریئنٹل کالج  سےفارغ ہورہے تھے  تو میں داخل ہو رہا تھا پھر یہ کہ وہ پنجاب یونیورسٹی  کے  مجلے “محور” کے مدیر رہے  ہیں اوران کے بعد میں بھی ،لیکن ان رشتوں میں سب سے بڑا رشتہ محبت کاہے جو ہمارے درمیان نصف صدی کا  قصہ ہےدو چاربرس   کی بات نہیں۔

سیاٹل میں اے۔آر رحمان کاکنسرٹ:

برعظیم پاک و ہند میں اسلام کااحیاء صوفیائے کرام اور اولیاءالللہ کی کاوشوں  کا ثمر ہے۔ حضرت نظام الدین اولیاء،حضرت داتا گنج بخش اور حضرت سخی   شہباز قلندر کی اسلامی اور تبلیغی خدمات سے    کون انکار کر سکتا ہے! ورنہ بقول اقبال ؀   

دین کافرفکرتدبیر جہاد

دین ملا فی سبیل الللہ فساد

اے آر رحمان کا ہندو سے مسلمان ہونا بھی ایک صوفی کی کرامت    ہے۔ وہ  ہندو گھرانے   میں پیدا ہوئے تھے،     پیدائشی نام دلیپ کمار  تھاجو قبول اسلام کے بعدالللہ رکھارحمان ہوا صوفی کریم الللہ قادری کی صحبت میں رہ کر وہ  دائرۂ اسلام میں داخل ہوئےجن سے رحمان کوان کےوالد کی وفات کے بعد روحانیات پر اعتقاد رکھنے والی ان کی ماں نےملوایا تھا۔ اب کنسرٹ کی بات ہو جائے۔حسن نے ہمیں سٹیج کے بالکل قریب   بٹھایاتھا جہاں سے ہم رحمان اور ان کی پارٹی کو بالکل سامنے سےاور بآسانی دیکھ سکتے تھے۔ کنسرٹ میں رحمان نے اپنےتمام مشہور گانے سنائے اورخوب  داد سمیٹی کنسرٹ کا اہتمام ایک بڑے پارک میں کیا گیا تھاجوکھچاکھچ بھرا ہواتھاشرکا میں پاکستانی اور انڈین شائقین کی بڑی تعداد موجود تھی جن میں سکھ بھی کافی تعداد میں شامل تھے۔   

رات گئے تک خوب ہلا گلا ہوا اوربہت مزا آیا۔

 جھیل سمامش میں کشتی رانی:

راوی دریاسےبچپن ہی سے شناسائی ہے میرا  آبائی گھر ساندہ میں ہے اوراس  دور میں راوی ہماری سیمنٹ  والی کوٹھی، ۲۳۔ساندہ روڈ کے بالکل قریب شاید میل سوامیل پربہتا تھا لبالب بھرا ہوتا تھا بلکہ اس میں سال کے سال سیلاب آیا کرتا تھا اور مجھے یاد ہے کہ سیلاب کے دنوں میں ہم پانی کےاترنے  تک کوٹھی  کی چھت پر دن  رات  گزارا کرتےتھے یہ اس دور کی باتیں ہیں جب ابھی ایوب خان کےسندھ طاس معاہدہ کے طفیل ہمارے دریا انڈیا کے بھینٹ     نہیں چڑھے تھے اور لاہور کا بڈھا دریا بھی ابھی جوان تھا جو آج کل ہر چند کہیں کہ ہے ہےنہیں ہے۔ اب تو راوی نہر سے بھی بد تر  بن چکا ہے۔میرے تایا  ابوالکاظم مرحوم سیر کے بہت شوقین تھے اور اتوار کے اتوار ہم بچوں کو لے کر شام کو راوی کی سیرکے لئے لے جایا کرتے تھے۔ گھر سے نکلتے ہی ایک بھاڑتھی۔ بھڑبھونجی سےجسے ہم سب ماسی  کہتے تھے تایا آٹھ آنے کےکبھی چنے کبھی مکئی   کے دانے بُھنواکر اپنی   جیب میں ڈال لیتے اور تھوڑاتھوڑا کرکے ہمیں راستے میں دیا کرتے یہاں تک کہ ہم راوی  تک پہنچ جاتےتھے۔  تایا اس زمانے کے اکثر    لوگوں  کی طرح   پیدل چلنےکے بہت شوقین تھے،خود میں بھی ہوں اوربہت پیدل چلا ہوں پھر سائیکل بھی خو ب  چلائی ہے۔ برا ہو ان کاروں کا کہ انہوں نے ہماری قومی صحت کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ یہاں امریکہ جیسے ملک میں بھی میں نے لوگوں     کی اکثریت کو کار کے ہوتے ہوئے بھی اکثر پیدل چلنے یا بسوں اور سائیکلوں کو ترجیح دیتے ہوئے پایا ہے۔اسی لئے یہاں ستر ستر اسی  اسی سال کے بوڑھے مرد عورتیں جوانوں کی  طرح بھاگ دوڑ کرتے نظر آتے ہیں۔

بات کہاں  سے کہاں  تک پہنچ گئی، پھر وہیں  سے شروع کرتے ہیں  میں بڑاتھامگر میرا  بھائی  دلاور اور تایا زاد انجم  جسے مرحوم لکھتے کلیجہ منہ کو آتا ہے چھوٹے تھے وہ جب تھکتے تھے  توتایاسےکہتےہم تھک گئے ہیں دریا کب آئے  گا؟  تایا کچھ دانے ان کے ہاتھ پر رکھتے اور کہتے تمہارے یہ دانے ختم ہوں گے تو راوی آجائے گا۔ اس طرح  تایا ہم سب کو ہنستے   کھیلتے باآسانی میل سوا  میل کا سفرطے کروا لیا  کرتے تھے۔اُن کی یہ  عادت تھی کہ منہ میں  کچھ نہ کچھ پڑھتے رہتے  تھے ۔بعد میں سمجھ آئی  کہ چونکہ ہمارےراستے   میں جنگل تھا وہ قرآنی  آیات اور آیت الکرسی  کا ورد کیا کرتےتھے۔ ابھی تک میں نے دریا  کو دور دور سےدیکھا تھا یاکبھی  ڈرتے ڈرتے پانی میں پیر ڈال کر اس  کی خنکی محسوس کی تھی  دریائے راوی سےمیرا پہلاباقاعدتعارف۱۹۶۴میں دیال سنگھ کالج میں داخلے کےبعدہوا جب میں کالج کی روئنگ ٹیم میں شامل ہوا اور ہفتے  میں ایک دو بار راوی پر جانے لگا۔کالج کی کئی ایک کشتیاں راوی پر ہوتی تھیں اور ایک ملاح جو کالج کا ملازم تھا۔ ان کی نگہداشت کےساتھ ہمیں بھی ٹریننگ  دیتا تھا۔اس کے بعد تو پھر کشتی رانی میرا  مشغلہ قرارپائی۔خوش قسمتی سے اوریئنٹل کالج میں بھی کشتی رانی کی ٹیم تھی اور کالج کی کشتیاں راوی میں موجود تھیں۔ مرحوم ڈاکٹر سہیل احمد خان روئنگ کلب کے  نگران تھے۔ چنانچہ میں یہاں بھی کشتی رانی سے خوب لطف اندوز  ہوا۔ 

اب کم و بیش پینتیس سال بعدیہاں امریکہ میں  سمامش جھیل میں اس ہفتےجی بھر کر کشتی چلائی ۔حسن نے  اپنی ربڑ کی ذاتی کشتی مع لوازمات رکھی ہوئی  ہے۔کشتی کو کار کی ڈگی   میں ڈال کرصبح صبح گھر سے نکل کھڑے ہوئے  دن بھرجھیل کنارے تفریح کے ساتھ ساتھ کشتی رانی کے مزے لیتے رہے۔

کشتی چلاتےچلاتے نہ معلوم کیوں راوی سے  جڑی ہوئی میری  بچپن  سے لے کر آج تک کی  تمام یادیں جو اوپر بیان ہوئی ہیں ایک ایک کر کے تصویروں کی  شکل میں ذہن میں آتی رہیں۔ دوڑ پیچھے کی طرف اے  گردش ایام تو ۔

خیال کی رو مجھے جھیل سے دریا پھر دریا سے سمندروں کاسفر کرواتی ہوئی دور تخیلات کے طوفانوں میں لے گئی اور پھر میرے ذہن کےافق پرنہ جانے کیسے  سلطان  باہو کا یہ قطعہ  جگمگانے لگا؀ 

دِل دریا سمندروں ڈُونگھے کون دِلاں دیاں جانے ہُو

وِچّے بیڑے وِچّے  جھیڑے وِچّے ونجھ مُہانے ہُو

چوداں طبق دِلے دے  اندر تنبُو وانگن تانے ہُو

جوئی دِل دا محرم ہووے سوئی ربّ  پِچھانے ہُو

یہ بات تو درست ہے کہ رب دلوں کے اندر  رہتا ہے اور اس کو پہچاننے کےلئے  دلوں کے اندرجھانکنا پڑتا ہے  لیکن رب کو پہچاننے کا مولا علی علیہ السلام نےایک آسان سا نسخہ اپنے ایک قول معرفت  کےذریعے ہم تک پہنچا دیا ہے:

عرفت الله سبحانه بفسخ العزائم۔ یعنی میں نے نے اپنے الللہ کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا ہے۔                    

سیاٹل میں ایام عزا:

محرم کا چاندغم وا ندوہ    کے پس منظر میں نظر آیا اور ایام عزا کا آغاز  ہو گیا ہے۔ یہاں امام بارگاہوں میں عشرۂ محرم الحرام  کی مجالس کا اہتمام کیا گیا ہے ،گھروں میں بھی زنانہ مجالس عزا منعقد ہو رہی ہیں۔ان مجالس میں دین اسلام کی بقاء کے لئے امام حسین  علیہ السلام اوراُن کے رفقاء کی قربانی اور استقامت کی یاد تازہ کی جارہی ہے۔ جوش ملیح آبادی کے مرثیے کا یہ بند یہاں بر محل ہوگا؀۔            

جب حکومت قصر ہائے معدلت ڈھانے  لگے

جب غرور اقتدار اقدار پر چھانے لگے

خسروی آئین پر جب آگ برسانے لگے

جب حقوق نوع انسانی  پہ آنچ آنے لگے

رن میں در آ ، بازو ئے  حیدر شکن سے کام لے  ان مواقع پر حسینی بانلپن سے کام لے۔