امریکا میں ساٹھ دن

یہ تحریر 202 مرتبہ دیکھی گئی

تیسرا صفحہ:

واشنگٹن جھیل:

 واشنگٹن جھیل جو سیاٹل کے نواح میں ہے کنگ کاؤنٹی کی تازہ پانی کی سب سے بڑی جھیل ہے۔

  گزشتہ روز ہم اس جھیل پر  گئے- دور دور تک پانی ہی پانی ، لہریں ہی لہریں- معلوم نہیں کیوں میری سوچ کی لہریں بھی جھیل کی لہروں کے ہم رکاب ہو گئیں-سلسلۂ خیال معلوم نہیں کہاں سے کہاں چلا گیا بقول منیر نیازی؀ 

خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا

مجھے سوال کا جواب بھی سوال میں ملا

مجھے سوچ کا دائرہ موجوں کی مانند ایک بڑے دائرے میں تبدیل ہوکر خرد کی گتھیاں سلجھانے کی کوشش کرنےلگا  

خرد  کی گتھیاں سلجھا چکا میں

مرے مولا مجھےصاحب جنوں کر

انسان کیا ہے؟ زندگی کیا ہے؟ تغیرات زندگی کیا ہیں؟ موت کیا ہے؟ فوری طور پر برج نرائن چکبست کا یہ شعر ذہن میں آنے لگا؀ 

زندگی کیا ہے ؟ عناصر میں ظہور ترتیب

موت کیاہے انہیں اجزاء کا پریشاں ہونا

یہ شعر عمومی طور پر غالب سے منسوب کیا جاتا ہے مگر یہ چکبست کی اس غزل    کاُشعر ہے۔

درد دل پاس   وفا   جذبۂ ایماں   ہونا

آدمیت ہے یہی اور یہی انساں ہونا

نو  گرفتار بلا   طرز    وفا   کیا   جانیں

کوئی نا شادسکھا دے انہیں نالاں ہونا 

زندگی کیا ہے  عناصر  میں ظہور   ترتیب

موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا اسی موضوع پر غالب کاشعر یہ ہے؀ ہوگئےمضمحل قوئ غالب اب عناصر میں اعتدال کہاں گویا شاعروں  کے ذھن رسا کی اڑان بھی بھی سائنسدانوں کے تجربات کی سرحدوں کو چھو سکتی ہے-جھیل کے پانی کی گہرائی نے میرے تفکر و تجسس کو زندگی کی حقیقت کی عمیق وادیوں کی سرگردانی میں مبتلا کر دیا سو میں سوچنے لگا کہ وطن سے ہزاروں میل دور بھی میں وہی ہوں ، گردو پیش کا ماحول اگرچہ مختلف نظارہ پیش کر رہا ہے لیکن فطرت کے مظاہر وہی ہیں گھاس اور پانی کا رنگ ایک ہی ہے-انسانی موت و حیات کے سر بستہ راز بھی یکساں ہیں- پھر یہ من و تو کی تمیز کیسی-انسان کی زبان ماحول تربیت رنگ اور ثقافت مختلف ہوسکتی ہیں مگر اصلیت نہیں بدل سکتی

آوارگان شوق  کا  پوچھا  جو  میں

پتا مشت غبار لے کے ہوا نے اڑا دیا

مگر اس مشت غبار نے کیا کیا گل کھلائے ہیں کہ الامان و الحفیظ۔ اب میرے خیال کی رو مجھے انسان سے خود اپنی طرف کھینچ لائی ہے۔ میں کیا تھا، کیا ہوگیا اور اب کیا ہو جاؤں گا-بڑا سوالیہ نشان؟؟؟؟؟ آگے چلنے سے پہلے ایک نظر مولا علی علیہ السلام کے اس قولُ پر ڈالئے اور جانیے  کہ زندگی کی حقیقت کیا ہے؟ “ جس طرح ایک قدم مٹ کر دوسرے قدم کے لیے جگہ خالی کرتا ہے اور یہ قدم فرسائی منزل کے قرب کا باعث ہوتی ہے , یونہی زندگی کی ہر سانس پہلی سانس کے لیے پیغام فنا بن کر کاروان زندگی کو موت کی طرف بڑھائے لیے جاتی ہے .گویا جس سانس کی آمد کو پیغام حیات سمجھا جاتا ہے ,وہی سانس زندگی کے ایک لمحے کے فنا ہو نے کی علامت اورمنزل موت سے قرب کا باعث ہوتی ہے کیونکہ ایک سانس کی حیات دوسری سانس کے لیے موت ہے اور انہی فنا بردوش سانسوں کے مجموعے کا نا م زندگی ہے” ذوق نے اپنے شعر اس قول امام ع کا کیا عمدہ خلاصہ کیا ہے؀                            نفس کی آمد و شد  ہے نماز اہل حیات     جو یہ قضا  ہو تو اے غافلو  قضا سمجھو تلازمۂ خیال بھی انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتا ہے- چلئے پھر جھیل کی طرف آتے ہیں- اس کا حسن و رعنائی تو خدا کی دین ہے مگر بنا نا سنوارنا انسانی کاوش کا نتیجہ-ہمارے ملک میں کیا نہیں پھر کیوں ہم ایک ہی دائرے میں گھوم رہے ہیں- سادہ جواب تو نئی نسل کی تعلیم و تربیت کی جانب  عدم توجہی ہے- ہمارے یہاں آج تک تعلیم کا بجٹ کبھی ایک ہندسے سے آگےنہیں بڑھ سکا ہے-تعلیم کے بغیر قوموں کی مثال ہوا میں تیر چلاتے یا اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں کھاتے انسان کی سی ہوتی ہے ، جو ہم پر صادق آتی ہے۔

میلے چار دناں دے:

کل میرے بڑے پوتے اسجد عباس اور پوتی زینب عباس نےجو اسلام آباد میں میری ان تحریروں کا باقاعدہ مطالعہ کر رہے ہیں مجھے احساس دلایا کہ میں اکٹر اپنے موضوع سے ادھر ادھر ہوجاتا ہوں مجھے خود بھی احساس ہے مگر کیا کروں کہ استاد کی حساسیت کی صفت میری سرشت میں شامل ہے جو گردو پیش کے جائزے اور نیک و بد کی نشاندھی سے باز نہیں رہ سکتا، دوسرے یہ کہ ان تحریروں کا مقصد محض  ذاتی تاثرات اورمشاہدات کا بیان ہے نہ کہ امریکہ کے بارے میں معلومات کی فراہمی کہ یہ سب کچھ تو آج کل موبائل پر انگلی کے ایک لمس پر گوگل ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے-ہم اب یوسف خان کمبل پوش سے مستنصر حسین تارڑ تک کی سفرنامے کی روایت سے بہت آگے نکل چکے ہیں-یہاں یہ بھی ذکر کردوں کہ یہ تحریریں “اوراق سبز”  اور اس کے مدیر عزیزم ڈاکٹر سلیم سہیل ، جو میرے انتہائی قابل فخر اور ذہین و فطین شاگرد ہیں کی مہمیزکے مرہون منت ہیں-ڈاکٹر سہیل کی نکتہ رسی کا میں اس وقت سے قائل ہوں جب یہ میری نگرانی میں اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ مکمل کر  رہے تھے- ان کا مقالہ میری نگرانی میں ہونے والے ان مقالات میں سر فہرست  ہےجو میرے لئے قابل فخر ہیں۔ ہاں تو بات پھر وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں چھوڑی تھی۔ واشنگٹن جھیل کے اطراف میں اس روز ایک میلہ بھی لگا ہوا تھا- ہماری طرح کا قتلموں اور پنگھوڑوں والا میلہ نہیں بلکہ ایک طرح  کا سستا بازار جہاں ضرورت کی ہر چیز سستے داموں میسر تھی-  جھولے اور تفریح کے تمام لوازمات بھی تھے مگر مجھے سب سے زیادہ سٹریٹ سنگر نے  متاثر کیا جس نے مجھ سے گفتگو بھی کی اور میری پسند اور فرمائش بھی  پوچھی میں نے جی بھر کر داد دی اور کہا جو چاہے سنائیں – انتہائی  مدہر دھن ، ہوا کی پر اسرار سرسراہٹ، جھیل کی لہروں کی سنسناہٹ ، یہ سب مدہوش کر رہی تھیں کہ زین اور کاظم نے آئس کریم کا گلاس بھی ہاتھ میں تھما دیا، دو آتشہ کی کیفیت ناقابل بیان ہے۔

تیسرا حوض:

یہاں  مجھے ایک لطیفہ یاد آرہا ہے، آپ بھی سئیے-ایک سردار جی نے نئی کوٹھی بنوائی جس یں نہانے کے کئے تین حوض بھی تھے- ان کا ایک دوست کوٹھی دیکھنے کے لئے آیا تو سردار جی نے بڑے شوق سے پوری کوٹھی دکھائی، حوض پر بھی لے گئے- دوست نے پوچھا- سردار جی تین حوض کیوں بنوائے ہیں آپ نے؟ پنجابی میں جواب دیا- اک گرم پانی  دا سردیاں لئی ، اک ٹھنڈے پانی دا گرمیاں لئی- دوست نے پوچھا تے تیجا؟  بولے ، کدے نہان نوں نئیں وی دل کردا-میرے خیال میں ریٹائیرڈ ڈ زندگی بھی اس لطیفے کے مصداق ہے، دل چاہے گرم پانیوں کی طرف نکل جاؤ یا ٹھنڈے پانیوں کی طرف، اور کدے دل نئیں وی کردا تے گھر بیٹھےرہوو تے آرام کرو۔

دعوت شیراز/ فادرز ڈے:

دیار غیر میں رہنے والے اپنے وطن اور وطن میں مقیم عزیزوں کو کبھی نہیں بھلا پاتے-یہاں کم وبیش ہر ویک اینڈ پر کسی نہ کسی گھر میں ہم چشم پاکستانی اکٹھے ہوکر میل ملاقات کے ساتھ ساتھ  دعوت شیراز کا اہتمام کرتے ہیں اور موجیں اڑاتے ہیں-کبھی کسی ہم وطن کے عزیز آجائیں تو لازمی طور پر ہر گھر میں پرتکلف دعوت کا اہتمام کرکے ان کو عزت دی جاتی ہے-چنانچہ اب تک  ہماری بھی اس طرح کی کئی ایک دعوتوں میں عزت افزائی کی گئی ہے – اس ھفتےشہر سے باہر پرفضاپہاڑی مقام پر پکنک کاپروگرام بنا جہاں پاکستانی سٹائل کے باربی کیو سے لذت کام و دہن کا اہتمام کیا گیا- یہاں فادرز ڈے کی مناسبت سے کیک بھی کاٹے گئے اور من جملہ یکے  از پدران، ہم بھی اس تقریب کا حصہ بنے۔ یادگار محفل تھی جو شام ڈھلے تک جاری رہی۔