ادھورا خط(0.2)

یہ تحریر 116 مرتبہ دیکھی گئی

وہی ہوا جس کا خواب تھا نہ خیال۔ تم نے میرا خط پڑھا، وہی ادھورا خط جس میں ادھورے جذبات دفن تھے۔ یا شاید تم نے صرف لفافہ کھولا مگر ادھورے جذبات میری محبت کی مکمل تصویر بنانے سے قاصر تھے۔ میں جب تمہیں خط لکھ رہا تھا تو میرے دل کی ادھوری دھڑکن سے یہی آواز آ رہی تھی کہ ادھورے سیاہ کاغذ کو پھاڑ کر پھینک دو اور محبت کی کہانی کے لیے مکمل رنگ تلاشو۔ مگر میں تو سیاہ رنگ کو مکمل ترین رنگ جانتا ہوں۔ جب سے تم نے میرا ادھورا خط کھولا ہے تب سے اب تک یہ دنیا سیاہ ہے، سیاہ ہوائیں چلتی ہیں، پرندے بین کرتے ہیں اور میرا دل سیاہ خون پھینکتا ہے۔ مجھے معلوم تھا کہ تمہیں آدھی ادھوری چیزوں سے نفرت ہے مگر میں اپنے ادھورے پن کو تمہارے ساتھ مکمل کرنے کی تمنا رکھتا تھا۔ میں نے اپنی ادھوری شامیں تمہیں خط میں اسی لیے پوسٹ کی تھیں کہ تم ان کو مکمل کرنے کا ہنر جانتی ہو۔ مگر کیوں، کیوں میں نے تمہیں ادھورے پن کے بھنور میں کھینچنا چاہ۔ یہ تو میں جانتا ہوں تم ہر جذبے کو شدت کے ساتھ نچھاور کرتی ہو۔ میرے ادھورے خط کو دیکھ کر شاید تم نے ادھورے پن سے نفرت، اس پر مکمل نچھاور کر دی ہو۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو لفظ زندہ ہوتے چاہے ادھوری سانسوں کے ساتھ، مگر زندہ ہوتے۔ اور میرے ادھورے سویرے پر مکمل رات نہ چھائی ہوتی۔ بہرحال اطمینان ہوا کہ تمہارا ایک جذبہ تو مکمل میرا ہے۔ اب اس پر نہ تمہارا اختیار ہے اور نہ کسی دوسرے کا حق۔ وہ نیلا جذبہ، میرے ادھورے پن کو ڈس گیا ہے اور شاید میں بھی اب ادھورا نہیں رہا۔