ادبی رسائل : کل اور آج

یہ تحریر 311 مرتبہ دیکھی گئی

(حلقہ ارباب ذوق،لاہورکے زیر اہتمام ادبی رسائل کے حوالے سے منعقدہ خصوصی اجلاس کے لیے مدیر استعارہ ڈاکٹر امجد طفیل سے ایک مکالمہ)

ڈاکٹر امجد طفیل اور ریاظ احمد کی ادارت میں ادبی کتابی سلسلے ”استعارہ” کا آغاز اکتوبر ۲۰۱۷ء میں ہوا۔عقیل اخترنے بطور معاون مدیر خدمات انجام دیں۔الحمد پبلیکیشنز،لاہور کے تعاون سے ۲۰۲۰ء تک استعارہ کے چھ معمول کے شمارے شائع ہوئے جب کہ شمارہ نمبر سات، آٹھ محمد حسن عسکری نمبر کے طور پر سامنے آیا۔
استعارہ کے اوراق پر نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کاایک سلسلہ” نیا قلم ”کے نام سے شروع کیا گیا جس میں ان شعرا اور مصنفین کے لیے ایک گوشہ مخصوص کیا گیا جن کی تحاریر کتابی صورت میں اشاعت کی منزل تک تاحال نہیں پہنچیں۔”تازہ کار و پختہ کار” کے عنوان سے معاصر اہم شعرا کے نمونہ ء کلام کو رسالہ کے اوراق کی زینت بنایا گیا۔
”استعارہ” میں شامل انٹرویو یا شخصی ملاقاتوں کے سلسلے نے پرانے ادبی رسائل ”اوراق”،” ماہ نو”، ”فنون” اور” سیارہ” کی یاد تازہ کی۔ جن شخصیات کے ساتھ یہ مکالمے ہموار کئے گئے ان میں ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا،ڈاکٹر شمیم حنفی،مستنصر حسین تارڑ،میاں اعجاز الحسن اوراسد محمد خان شامل ہیں۔
”استعارہ” کو اگر دیگر معاصر ادبی رسائل سے ممیز کیا جا سکتا ہے تو اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ رسالے کے محدود اوراق میں ادب کی مختلف اصناف کی نمائندگی حصہ بقدر جثہ نظر نہیں آتی بلکہ مدید و منتظمین نے عصری ادب کی سبھی اصناف کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کی ہے۔ رسالے میں افسانے اور شاعری جیسی عام مقبولیت کی حامل اصناف کے ساتھ مکالمہ، ناول، مضامین،مزاح، آپ بیتی،خاکے،سفرنامے اور عالمی ادب کے تراجم کو مناسب جگہ دی گئی۔ نوآموزلکھنے والوں کے ساتھ قد آور معاصرین، جب کہ رفتگاں میں سے چنیدہ اہل قلم کے لیے مخصوص گوشے مختص کیے گئے۔اب تک کی اشاعتوں میں گزشتگان میں سے سراج منیر،اکبر معصوم،عبداللہ حسین،جون ایلیا اورمختار مسعود کی خدمات کو خصوصی توجہ دی گئی۔
محض تین سال کے عرصے میں معمول کے شماروں کے ساتھ محمد حسن عسکری نمبر کی اشاعت جو اردو زبان و ادب میں اپنی نوعیت کا غالباََواحد کام ہے ایک اہم سنگ میل ہے لیکن متحرک ادارت کے باوصف ایک اہم ادبی رسالے کو کماحقہ پزیرائی حاصل نہ ہونا باعث حیرت ہے۔
راقمہ نے مدیراستعارہ ڈاکٹر امجد طفیل سے اس سلسلے میں ایک مکالمہ کیا جس کی روداد یوں ہے:
سوال: آپ گزشتہ پینتیس چالیس برس سے تعمیر ادب اور ادبی سرگرمیوں سے وابستہ رہے ہیں۔اردو ادب کے ایک عہد پر آپ کی نظر ہے۔ادبی تربیت میں آپ ر سائل کا کیا کردار دیکھتے ہیں۔کچھ ان رسائل کے بارے میں بتائیے جن سے آپ نے استفادہ کیا؟
جواب: دیکھئے بات یہ ہے کہ جب میں اپنے ادبی سفر کے گزشتہ تیس پینتیس سالوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے گمان گزرتا ہے کہ ادبی رسائل ادب کی لائف لائن کی حیثیت رکھتے ہیں۔لکھنے والے اپنی تحریروں کی اشاعت کے لیے رسائل کی طرف دیکھتے ہیں۔تحریر کی قارئین تک ترسیل کے لیے رسائل بہت ہی اہم ذریعہ ہیں۔اب تو بات بہت کم ہو گئی ہے۔ ایک دور میں ادبی رسائل میں چھپنے والی تخلیقات پر بحث و مباحثہ بھی بہت ہوا کرتا تھا۔ تو یہ ایک سیکھنے سکھانے کا عمل تھا۔ کتاب لکھنے والا آئے روز تو اپنی کتاب نہیں چھپوا سکتا۔ کتاب اسی وقت چھپتی ہے جب اتنی معقول تحریریں لکھنے والے کے پاس جمع ہو جائیں کہ انھیں ایک مجموعہ کی شکل میں چھاپنا ممکن ہو۔ اس سے پہلے تحریر یا تو ادبی نشستوں میں پڑھی جاتی ہے یا رسائل ایک ذریعہ ہیں۔اب ایک فورم،خاص طور پر شاعروں کے لیے فیس بک بھی ہے لیکن یہ جو سہولت ملی ہے اس نے نئے لکھنے والوں کو ذمہ داری سے آزاد کردیا ہے۔ رسالہ ایک احساس ذمہ داری سے نکلتا ہے۔مدیر یہ ذمہ داری قبول کرتا ہے کہ وہ اپنے تئیں، اپنے ذوق کے مطابق معیاری تحریر کا انتخاب کرے گا۔ناگزیر ہو تو اچھے مدیران اصلاح بھی دیتے ہیں،ناپسندیدہ مواد کی اشاعت سے معذرت بھی کرلیتے ہیں۔ تو یہ ایک سلسلہ بنتا ہے۔
جن رسائل نے میری ادبی تربیت میں حصہ لیا ان میں ”اوراق” کا نام سرفہرست ہے جس میں میری ابتدائی تحریریں انشائیہ کی شکل میں شائع ہوئیں۔وزیر آغا بہت باعلم آدمی تھے، ادب کے عمدہ ناقد اور عالم آدمی تھے۔ وہ تحریروں کی اصلاح بھی کرتے تھے اور پوچھ لیا کرتے تھے کہ اگر اصلاح ہوجائے تو کوئی حرج تو نہیں۔دوسرا نام” سیارہ ”کا ہے جو حفیظ الرحمن احسن نکالتے تھے اور زبان و بیان کی غلطیوں کی بڑی سختی سے گرفت کرتے تھے۔میں پہلے بھی زبان کی غلطیاں کرجاتا تھا اور اب بھی کرتا ہوں۔کراچی سے اجمل کمال” آج ”نکالتے ہیں جس کی پوری فائل میرے پاس محفوظ ہے۔اس رسالے سے بین الاقوامی ادب خاص کر جدید فکشن کے مطالعے کا بہت موقع ملا اورہم نے بہت کچھ سیکھا۔آصف فرخی اب دنیا میں نہیں رہے۔ ”دنیا زاد”بہت اچھا رسالہ تھا۔نصیر احمد ناصراور مبین مرزا کے رسالے ہیں۔ ”ماہ نو ”اگرچہ سرکاری رسالہ ہے لیکن جب جب اسے کوئی اچھا مدیر ملتا ہے تو یہ بھی بڑے ڈھنگ سے چیزیں چھاپتے ہیں۔ انیس سو چھیاسی میں میرا پہلا افسانہ ماہ نو ہی میں چھپا جب کشور ناہید مدیرہ تھیں۔انھوں نے میرے افسانے پر مشورہ دیا کہ یہ انداز انتظار حسین ہی کو زیبا ہے،آپ تو ایک مختلف کلچر کے آدمی ہیں۔اب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ایک سینئر لکھنے والے اور ایک رسالے کے مدیرکی طرف سے یہ بڑی بروقت تنبیہ تھی۔اس طرح یہ رسائل تربیت کیا کرتے تھے۔
سوال: مواد کی برقی تشکیل (Digitalization) کے اس عہد میں رسائل کی کتابی صورت میں اشاعت اور پھر ان کی صاحبان ذوق تک ترسیل کے کیا مسائل ہیں؟ کیا کتابی صوت میں رسائل کی پزیرائی کی وہی صورت حال ہے کہ جو تھی؟اور کیا اس سے ادب کی صورت حال پہ بھی کوئی فرق آتا ہے؟
جواب: ہم نے جب سے یہ رسالہ نکالنا شروع کیا اور ظاہر ہے کہ یہ کتابی صورت ہی میں شائع ہوتا رہا ہے اگرچہ میں نے ابتدا میں اس کی پی ڈی ایف فائلز دوسرے ممالک میں کچھ لوگوں کو پہنچائیں، میں اس برقی تشکیل کے دور کو بھی دیکھ رہاہوں، اردو کی اچھی ویب سائٹس بھی میری نظر سے گزرتی ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ اردو زبان کے قاری بلکہ لکھنے والے کا بھی رجحان ڈیجیٹل فارم میں چیزوں کو پڑھنے کی طرف نہیں ہے۔ ہماری خواہش کتاب ہے۔کچھ عرصہ تک، آپ کی نسل اوراس کے بعد کی نسل جو ہم سے زیادہ اس تبدیلی سے مانوس ہے وہ شاید اسے قبول کرلے اور ہم آن لائن رسالے نکالیں۔ اس وقت ڈیمانڈ اس رسالے کی زیادہ ہے جو کتابی صورت میں موجود ہو۔ڈیجیٹل فارم میں رسالہ لوگ ریکارڈ کے لیے تو رکھ لیتے ہیں یا اپنے مطلب کی شے دیکھ لیتے ہیں لیکن جیسے ہم دوسو چھیاسی صفحے کا شمارہ کتابی صورت میں نکالتے ہیں، میرا نہیں خیال کہ زیادہ لوگ دوسو چھیاسی صفحات آن لائن پڑھ سکتے ہیں۔اردو رسائل و جرائد کی حد تک مجھے یہی لگتا ہے کہ کتابی شکل ضروری ہے۔ بعض تحقیقی رسائل Digitalize ہوئے ہیں تو اس لیے کہ وہ اس طرح تحقیق کے مقصد کو پورا کرتے ہیں۔وہاں چھپنے والی چیزیں عام قاری کی دل چسپی کی نہیں ہوتیں۔
سوال: آپ نے معاصر ادبی رسائل کی موجودگی میں استعارہ کے نام سے ایک نیاکتابی سلسلہ جاری کیا، اب جب کہ یہ سلسلہ اپنے قدموں پر کھڑا ہوچکا ہے آپ دیگر ادبی رسائل میں ”استعارہ” کا کیا مقام دیکھتے ہیں؟
جواب: دیکھئے جو لوگ اردو رسائل پڑھتے ہیں وہ میری بات کی گواہی دے سکتے ہیں کہ یہ باقی رسائل سے مختلف ہے۔مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہر رسالہ اپنے مدیر کی Reflection ہوتا ہے۔ تو یہ جو استعارہ ہے اس میں ریاظ احمد کی بھی شمولیت ہوتی ہے۔اس کے سات شمارے سامنے رکھ لیجے اور دیگر ادبی رسائل کے گذشتہ سالوں کے شمارے رکھ لیجے۔ ایک واضح فرق نظر آئے گا کہ یہاں مختلف اصناف کی نمائندگی ہوگی۔ پھر استعارہ میں صرف شعر و ادب نہیں ہے۔ ہم نے میاں اعجاز الحسن کاجو ایک باکمال مصور ہیں ایک تفصیلی انٹرویو شائع کیا۔موسیقی اور مصوری سے متعلق مواد تقریبا ہر شمارے کا حصہ بنا۔میں ادب کو ایک تہذیبی مظہر کے طور پر دیکھتا ہوں اورسمجھتا ہوں کہ دیگر تہذیبی مظاہر کے ملاپ سے ادبی مظہر کو بہتر سمجھا جاسکتا ہے۔اس کی سب سے بڑی مثال ہمارے ہاں غزل اور غزل گائیکی ہے۔ پاپولر شاعر اور پاپولر غزلیں وہ ہیں جو گائی گئی ہیں اور اچھے گائک نے گائی ہیں تو کچھ نہ کچھ تعلق علوم کا آپس میں ہے۔مصوری کا بھی یہی معاملہ ہے۔ ادبی رسائل کوادب کے Allied disciplines کو ساتھ لے کر چلنا چاہئے۔یہ چیز شاید دیگر رسائل میں کم نظر آئے۔ اسی طرح ایک طویل انٹرویو کا سلسلہ استعارہ میں شروع ہی سے شامل ہے۔اس کا مقصد یہ تھا کہ سینئر لکھنے والوں کی پوری زندگی، ادبی خدمات اور نقطہ نظر کو محفوظ کر لیا جائے۔اب انٹرویو ایک آدھ رسالے میں ہی نظر آتا ہے۔سالنامہ کی روایت اس لیے دم توڑ رہی ہے کہ زیادہ تر رسائل شائع ہی سال بھر کے بعد ہوتے ہیں۔ہمارا ارادہ تھا کہ ہم تین عام شمارے نکالا کریں گے اور ایک سالنامہ نکالیں گے لیکن واقعہ یہ ہے کہ تین سال کے عرصے میں ہم صرف سات شمارے نکال سکے ہیں۔ یہ کچھ معاملات ہیں۔اصل رائے آپ کی اور دیگر پڑھنے والوں کی اہم تصور کی جائے گی۔

سوال: ہم دیکھ رہے ہیں کہ پچھلے کچھ عرصے سے ”استعارہ ”کی اشاعت تعطل کا شکار ہوتی آرہی ہے۔ اس کی وجہ آپ کی دیگر مصروفیات ہیں یاکچھ اور عوامل حائل تھے؟
جواب: استعارہ ایک Joint Venture کے طور پر شروع کیا گیا تھا۔ مواد کے معاملات میرے ساتھ ریاظ احمد اور عقیل اختر دیکھتے تھے اور اشاعت الحمد پبلیکیشنزکے صفدر حسین کے ذمہ تھی جو بطور مدیر منتظم بھی ادارت کا حصہ ہیں۔ہم نے محمد حسن عسکری نمبر ۲۰۱۹ء میں پلان کیا تھا اور خیال تھا کہ سال کے آخر تک یہ شمارہ آجائے گا لیکن مواد جمع کرتے کرتے۲۰۲۰ء آگیا اور جب اشاعت کا مرحلہ آیا تو لاک ڈاؤن شروع ہوچکا تھا۔لاک ڈاؤن کی صورت حال سے نکلے تو اگست کے لگ بھگ رسالہ تیار ہوا۔ جب سے اب تک کتابوں کی خرید و فروخت کی صورت حال دگرگوں ہی رہی ہے۔رسالہ Economically viable نہیں بن پایا۔مادی وسائل کی عدم موجودگی میں ہمارے سامنے یہ سوال موجود ہے کہ رسالے کے مالی معاملات کو کیسے دیکھا جائے۔بہرحال موجودہ کرونائی صورت حال کے باعث شاید تاخیر ہوجائے لیکن ہمای ترجیح میں اگلے شمارے کی اشاعت موجود ہے۔
سوال: آپ نے استعارہ میں بلا تعطل جاری رہنے والے دو سلسلے ”نیا قلم ”اور” تازہ کار و پختہ کار” قائم کیے۔ان کے بارے میں یہ فرمائیے گا کہ محض دو نسلوں کی نمائندگی پیش نظرتھی یا تقابل مقصود تھا یا کوئی اور محرک تھا؟
جواب: میں یہ چاہتا تھا کہ ادبی رسالہ کسی ایک نسل تک محدود ہوکر نہ رہ جائے۔عام طور پر ہمارا رجحان یہ ہوتا ہے کہ اپنی نسل کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔نئے آنے والوں کو دیر سے مانا جاتا ہے اور میں نے کئی بار اپنے بزرگوں سے بھی سنا کہ جی جو لکھنا تھا ہم نے لکھ لیا یا پچھلے لکھ گئے اور یہ نسل کچھ نہیں لکھ رہی۔یہ ہر نسل کا اپنا تعصب ہوتا ہے۔اپنے بعد آنے والوں کوہم پڑھتے نہیں اس لیے ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے بعد کچھ لکھا ہی نہیں گیاجب کہ ادب کا سلسلہ تو ایک بہتی ندی کی مانند ہے۔ اگر پیچھے سے پانی نہیں آئے گا تو ندی خشک ہوجائے گی۔نئے تخلیق کار نہیں آئیں گے تو ادب کا دریا بھی خشک ہوجائے گا۔ پھر یہ بتانا بھی مقصود تھا کہ نئے لکھنے والوں میں بہت امکان موجود ہے۔ تازہ کار و پختہ کار کا سلسلہ جاری کرنے سے مقصود یہ تھا کہ سینئر لکھنے والوں کے کام پر بھی نظر ڈالی جائے کہ وہ اب کیا کر رہے ہیں۔مرحومین پہ ہم نے جو پانچ چھ گوشے شامل کیے تو پیش نظر یہ تھاکہ دنیا سے چلے جانے والوں کے کام سے استفادہ بھی جاری رہے۔یوں ایک زنجیربنانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں ظاہر ہے کہ تقابل بھی ہوگا۔نیا قلم میں منیر فیاض، فارحہ ارشد کی تخلیقات کوتو بہت سراہا گیا۔باقی ادب میں بہت سے عوامل ہوتے ہیں اور مرنے کے بعد ہی پتا چلتا ہے کہ کسی کا کیا مقام ہے لیکن evaluationہوتی رہنی چاہئے۔
سوال: صاحب علم کی صحبت یا کتاب خوانی میں سے آپ کسے ترجیح دیں گے؟ باالفاظ دیگرادب کا طالب علم ترجیحاََکتب ورسائل پڑھے یا ادبی نشست سے حظ اٹھائے؟
جواب: اگر صاحب علم اور صاحب بصیرت کی صحبت ملے تو وہ کتاب بینی سے بہت بہتر ہے۔اب ایسے لوگ کم رہ گئے ہیں۔اب باقی رہ جانے والی کتاب ہی ہے۔ویسے تو میں کہا کرتا ہوں کہ تخلیقی آدمی کو زیادہ سے زیادہ اپنی صحبت میں رہنا چاہیے تاکہ وہ اپنے بگڑنے کا الزام کسی دوسرے پر نہ رکھ سکے۔اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جو صاحب نظر اور صاحب بصیرت کی صحبت ہوتی ہے وہ تخلیق کار کی جو Transformation کرتی ہے وہ کسی اور چیز سے ممکن نہیں۔
سوال: ادبی رسائل کی سرپرستی کی کیا صورت حال دیکھتے ہیں؟ ادبی رسالہ کیا فقط مدیر کا درد سر ہے؟
جواب: ایسا ہی نظر آتا ہے؟مدیر یا اس کے ایک دو دوست جو اس سے تعاون کرنا چاہیں۔کراچی کے رسائل میں اشتہارات کی وجہ سے صورت حال بہتر نظر آتی ہے۔یہاں ایک دو ادارے ہیں جو رسائل کو اشتہارات دے دیتے ہیں۔ایک آدھ رسالے کے بارے میں میں جانتا ہوں کہ مدیر نے بڑی محنت سے سالانہ خریدار بنائے۔رسالہ اچھا تھا اس لیے وہ کامیاب بھی رہے۔ پہلے دن سے طے تھا کہ کسی کو بھی رسالہ اعزازی نہیں ملے گا، اب اگر کوئی پڑھنا چاہے تو ظاہر ہے کہ وہ قیمتاََ منگوائے گا۔
سوال: استعارہ کے لیے آپ نے شخصی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا۔ کچھ ان نشستوں کے بارے میں بتائیے۔
جواب: ہر شمارے میں کسی ایک بڑے لکھنے والے سے گفتگو کا سلسلہ ہم نے بہت پہلے پلان کیا تھا۔پہلا انٹرویو ڈاکٹرخواجہ محمد زکریا کا کیا۔ان کے بعد انڈیا سے شمیم حنفی تشریف لائے جن سے پہلے ہی طے تھا کہ انٹریوہوگا۔ اعجاز الحسن ادب کے عمدہ قاری اور مصور ہیں۔ان کا انٹرویو لیا۔اسد محمد خان لاہور آئے تو ان سے انٹرویو لیا۔ان سب شخصیات کے ظاہر ہے کہ اس سے پہلے بہت سے انٹرویو لیے جا چکے تھے لیکن ہم نے کوشش کی کہ جو باتیں پہلے ضبط تحریر میں نہیں لائی گئیں ان پر بات ہو اور اس میں ہم کامیاب بھی ہوئے۔
سوال: آپ نے استعارہ کے پہلے خاص نمبر کے لیے محمدحسن عسکری کی شخصیت کا انتخاب کیا۔ اس انتخاب کی کیا وجہ تھی؟
جواب: میں بہت شروع سے عسکری صاحب کی تحریروں کا مداح ہوں۔مجھے ان کے ہاں مغربی تصورات کے ساتھ برابری کی سطح پر کھڑے ہوکر مکالمہ کرنے کی جستجو نظر آتی ہے۔وہ چیزوں کو اندھیرے میں رہتے ہوئے قبول نہیں کرتے، ان پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔پھریہ ہمت کہ وہ زمانے کے فیشن میں نہیں بہتے، اگر ستر اسی فیصد ادیب کسی بات کے حامی ہیں تو آپ انھیں اس ہجوم کا ہم آواز نہیں پائیں گے بلکہ وہ اس پہ اپنا ردعمل دیں گے۔ایک مزے کی شے یہ ہے کہ وہ بڑی شگفتہ نثر لکھتے ہیں۔ تنقید میں جو ایک یبوست آجاتی ہے کہ قاری کو لگتا ہے اس کے سر پہ پتھر دے مارا گیا ہے وہ عسکری صاحب کے ہاں نہیں ملتی۔ وہ بڑی شگفتگی لیکن بصیرت کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ اردو میں شاید بلکہ مجھے یقین سے بات کرنی چاہئے، سب سے بڑے نقاد محمد حسن عسکری ہی ہیں جنھوں نے عصر کے مطابق سوالات اٹھائے اور ان کا جواب دینے کی کوشش کی۔اگر ہم حالی سے جدید تنقید کا آغاز کرتے ہیں تو حالی کے علاوہ کسی دوسرے نقاد کے بارے میں آپ کو رسائل میں بحثیں نہیں ملیں گی۔تو ایک آدمی جس کا پچاس سال پہلے انتقال ہوا تھا اگر پچاس سال بعد بھی اس کے تصورات ادب میں ہل چل پیدا کر رہے ہیں تو وہ بجا طور پر اس بات کا سزاوار ہے کہ اس پر ایک خصوصی اشاعت سامنے لائی جائے۔علی گڑھ یونیورسٹی سے ایک خاص نمبر چھپا اور ایک ہم نے استعارہ کامحمد حسن عسکری نمبر نکالا۔ تخلیقی اعتبار سے زندہ رہ جانے والوں پر ہی خاص نمبر چھاپے جاتے ہیں، کسی کو زندہ کرنے کے لیے ادبی رسائل کی خاص اشاعتیں نہیں نکالنی چاہئیں۔
سوال: مجھے یاد پڑتا ہے کہ استعارہ کے ابتدائی دنوں میں آپ پرانی ادبی روایت کی تقلید میں رسالے میں کچھ فکری و تنقیدی مباحث کو سلسلہ وار شائع کرنے کے خواہاں تھے۔ یہ سلسلہ کیا ہوا؟
جواب: جی،خواہش تو میری تھی اور اگر آپ یاد کریں تو میں نے سراج منیر صاحب پہ جب گوشہ چھاپا تو اس پرہمارے ایک دوست عاصم بخشی کا رد عمل آیا اور میں نے وہ بھی چھاپا۔لیکن ایک چیز کا احساس مجھے یہ سات پرچے چھاپ کر ہوا کہ ایک دور میں لوگ خط لکھ کر ردعمل دیا کرتے تھے۔ اب جس قسم کے خطوط آتے ہیں ان میں نہ مجھے دل چسپی ہے نہ میں نے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی۔ ایک صاحب نے پہلے یا دوسرے شمارے کے بارے میں چند تنقیدی سطریں بھیجی تھیں وہ میں نے ویسی ہی چھاپ دیں۔لوگ اب اپنا رد عمل دینے سے اجتناب کرتے ہیں۔ڈرتے ہیں یا ان کے پاس وقت ہی نہیں رہا۔معاشرہ میں مکالمے کی روایت کا انحطاط ہے۔نعرہ بازی تو بہت ہے جسے میڈیا چینلز نے ہوا دی ہے۔صحت مند مکالمہ جس کے ذریعے افہام و تفہیم سے کسی مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے معاشرے سے غائب ہوچکا ہے۔
سوال: کیا اختلاف فکر کے ساتھ مکالمہ کی گنجائش تحریر کی صورت میں بھی معدوم ہوتی جارہی ہے؟
جواب: جی بالکل۔مکالمے کے ختم ہوجانے کا احساس ادبی رسائل کے مطالعے سے بھی ہوتا ہے۔لوگ ردعمل نہیں دیتے۔ احساسات کو چھپایا جاتا ہے اور اگر کوئی ہمت کرتا ہے تو جس سے اختلاف کیا گیا ہے وہ عجیب و غریب ردعمل دیتا ہے۔ ایک آدھ قاری کے علاوہ جیسے میں نے عاصم بخشی کا حوالہ دیا جو پڑھنے لکھنے والے آدمی ہیں مجھے تو خاموشی ہی نظر آئی ہے اور یہ ایک ایسا پہلو ہے جو مجھے کبھی کبھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اس دور میں کسی ادبی رسالے کی ضرورت ہے بھی یانہیں کیونکہ رسالہ اگر لکھنے والوں کے درمیان ایک صحت مند مکالمہ ہموار نہیں کررہا تو پھر ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے۔
عبیرہ احمد
۲۶ مارچ ۲۰۲۱ء