آوے کا آوا

یہ تحریر 238 مرتبہ دیکھی گئی

“ادھوری کہانی کی تصویر” شاہد رضوان کے افسانوں کا چوتھا مجموعہ ہے۔ اس سے پہلے ان کا ایک افسانوی مجموعہ نظر سے گزر چکا ہے۔ اس مجموعے میں جو خوبیاں اور خرابیاں تھیں وہ نئے افسانوں میں بھی اسی لباس اور تراش میں موجود ہیں۔ گویا ان کی افسانوی کائنات استوار حالت میں اپنے تمام مثبت اور منفی پہلوؤں سمیت قائم ہے۔

کچھ وضاحت ایک منفی پہلو کی ضروری ہے۔ بہت سے افسانہ نگاروں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کا بیانیہ کچھ سادہ اور بے رنگ ہو گیا ہے۔ لہٰذا اس میں زور پیدا کرنے کے لیے عبارت آرائی اور خطابت کا سہارا لینا چاہیے۔ اس کا الٹا نتیجہ نکلتا ہے۔ جو بات سیدھے انداز میں کی جائے وہ زیادہ مؤثر ہوتی ہے، بشرطیکہ کہ نپی تلی ہو، صحافیانہ اسلوب میں سپاٹ نہ ہو۔

مثال کے طور پر “ہاتھ خالی” کی پہلی چار پانچ سطریں ملاحظہ ہوں۔ یہ بڑی صفائی سے مرکزی کردار (جو عورت ہے) کے ذہنی خلفشار کی ترجمانی میں کام یاب ہیں۔ لیکن اتنی ہنرمندی سے شاہد رضوان کو اطمینان نہیں ہوا اور مزید رنگ آمیزی کی جس سے افسانے کے تاثر میں فرق آ گیا۔ اگر تھوڑی غیر جانب داری اور تحمل سے کام لیا جاتا تو یہ افسانہ خاصا کام یاب ثابت ہوتا۔ اس کا مرکزی خیال یہ ہے کہ بے غرضانہ محبت، خواہ کسی فرد سے ہو یا شے سے، رائیگاں نہیں جاتی۔

معاشرے کے ایک فکرمند اور حساس مشاہد کے طور پر مصنف کو ارد گرد کی دنیا بہت گھناؤنی نظر آتی ہے۔ حقیقت میں وہ ہے بھی گھناؤنی۔ ظاہری دعوے اور نعرے جو بھی ہوں، حرص، ہوس، ظلم، استحصال اور فریب معاشرے میں اس طرح پنجے گاڑ چکے ہیں کہ اصلاح کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ تعلیمی ادارے، خصوصاً جہاں مخلوط تعلیم کا بند و بست ہو، چکلے معلوم ہوتے ہیں۔ اہلیت بے معنی ہو کر رہ گئی ہے۔ اہمیت صرف اس امر کی ہے کہ اساتذہ کو خوش کیسے رکھا جائے۔ “سندری” میں یہی کچھ ہے۔ افسانوں میں جعلی پیروں کا بھی ذکر ہے جیسے “گڈڑے” اور “جنڈی والی سرکار۔” پہلا افسانہ  نسبتاً بہتر ہے۔ جعلی پیروں کو بھی چھوٹے موٹے سیاست دان سمجھنا چاہیے۔ سیاست داں بڑے  پیمانے پر دھوکا دیتے ہیں، بناوٹی پیر چھوٹے پیمانے پر۔ اگر لوگوں میں اتنا شعور پیدا ہو جائے کہ پہلے چھوٹے فریب کاروں سے بچ سکیں تو شاید کبھی سیاست دانوں سے بھی نمٹ لیں۔

معاشی استحصال کی شکل “تارکول کی سڑک” میں نظر آتی ہے جہاں ماں مجبور ہو کر بیٹی کو ناجائز کام کرنے کو کہتی ہے۔ “ٹھیکے دار” پڑھ کر پتا چلتا ہے کہ گداگری بھی ایک منظم پیشہ ہے اور جو لوگ گداگروں کی سرپرستی کرتے ہیں وہ سفاکی میں کسی سرمایہ دار یا وڈیرے سے کم نہیں۔ دہشت گردوں کی اپنی تنظمیں ہیں۔ سرمایہ ہر جگہ، ہر سطح پر، کارفرما ہے۔ جتنا زیادہ سرمایہ ہوگا اتنی ہی گڑبڑ پھیلانے میں آسانی رہے گی۔ اپنے ملک پر اور بسااوقات دوسرے ملکوں پر بالواسطہ راج کرنے میں مدد ملتی ہے۔ شر اور خیر میں تمیز مشکل ہو جاتی ہے۔ شر خیر کا روپ دھار کر سامنے آتا ہے۔ خیر شر معلوم ہونے لگتا ہے۔ یہ افسانے ہمارے معاشرے کی ابتری کی تصویریں ہیں۔ اگر شاہد رضوان اپنے بیانیے پر توجہ دیتے تو بعض افسانوں پر انھیں خاصی داد مل سکتی تھی۔ سب سے اچھا افسانہ “بس ٹرمینل” ہے۔ اسے ختم بھی بڑے سلیقے سے کیا گیا ہے۔ “گلچیں” ایک ایسے شہوت زدہ نوجوان کے بارے میں ہے جو کسی بچے یا بچی کا شکار کرنا چاہتا ہے۔ افسانے کی آخری تین سطریں غیر ضروری ہیں۔ “عوامی ٹائلٹ” میں انٹرنیٹ اور موبائل ایسی غلاظت نظر آتے ہیں جو ہر وقت ہر کسی کو چمٹی رہتی ہے اور مرکزی کردار آخر جھلا کر موبائل فون کو نہر میں پھینک دیتا ہے۔ شاید کبھی ہم سب کو بھی یہی کرنا پڑے کہ ان نئی ایجادات سے ہمیں تابع دار اور مجہول بنانا  مقصود ہے تاکہ ہم خود سوچنے اور دیکھنے اور سننے کے اہل نہ رہیں اور صرف وہی سوچیں، دیکھیں اور سنیں جس کی کہیں سے تلقین کی جا رہی ہو۔

کتابت کی غلطیاں بھی ہیں اور کہیں کہیں عبارت کی بے ربطی بھی  شاید احتیاط سے پروف نہ پڑھنے کا شاخسانہ ہو۔ ایک جگہ لکھا ہے کہ اس کے دائیں ہاتھ میں روبوٹ اور بائیں ہاتھ میں سلگتا سگریٹ تھا۔ ریموٹ کے بجائے روبوٹ! اسی طرح ایک اور جگہ “مونا لزا کی ابدی ہنسی”۔ معلوم ہوتا  ہے یہاں سنی سنائی پر اکتفا کیا ہے۔ اصل تصویر کبھی دیکھی نہیں۔ مونا لزا اپنی پُراسرار مسکراہٹ کی وجہ سے مشہور ہے۔

ادھوری کہانی کی تصویر از شاہد رضوان

ناشر: دانیال شاہد، چیچہ وطنی۔

0306-1503614

صفحات: 200؛ پانچ سو روپیے