آشوب ِآگہی

یہ تحریر 100 مرتبہ دیکھی گئی

میرے مزاج کے ساتھ ایک عجیب مصیبت لگی ہے۔  جن لوگوں سے مجھے گہرا تعلقِ خاطر ہوتا ہے ، ان کے ملکِ بقا کو سِدھار جانے پر میں ایک عرصے تک  میں ان کے بارے میں کچھ نہیں لکھ پاتا،  بس ان کی یاد میں کھویا رہتا ہوں، ایک قابلِ لحاظ عرصے کے بعد  قلم کو جنبش ہو توہو ورنہ ـــ ایک لمبی چُپ اور تیز ہوا کا شور! یہی وجہ ہے کہ میں اپنے بعض بزرگ کرم فرماؤں  اور دوستوں مثلاً  حافظ افضل فقیر،  قیوم نظر، احسان دانش،  عبدالعزیز خالد اور جعفر بلوچ پر اب تک کچھ نہیں  لکھ پایا۔  دراصل جی یہ مان کے نہیں دیتا کہ  وہ رخصت ہو چکے ہیں ۔ مرحوم عمران نقوی کے باب میں بھی  میری صورتِ حال ایسی ہی رہی ہے۔  انھیں رخصت ہوئے پورا ایک برس بیت گیا،  اب یقین سا ہو چلا ہے کہ وہ  عزیز جا چکا او ر وداع کی گھاٹیوں کے پار  اتر گیا، اب کیا لوٹے گا!   یوں بھی کہنے والا کہہ گیا ہےکہ:

؎      جانے والے کبھی نہیں آتے/ جانے والوں کی یاد آتی ہے

ایک مبہم سا خیال آتا ہے کہ  اپنے عزیز بزرگوں اور  دوستوں  نعیم صدیقی،  حفیظ احسن،  سید نظر زیدی،  فروغ احمد، جعفر بلوچ اور افضل آرش کی  مشاورت سے ہفتہ وار  حلقۂ ادب لاہور کی  نِیو رکھنے  کے بعد جلد ہی  ڈاکٹر شہباز ملک،  پروفیسر یونس احقر،  ڈاکٹر آفتاب احمد نقوی اور  کئی دوسرے احباب نے  پنجابی ادبی پروار کا بھی ڈَول ڈالا، جس کے جائنٹ سیکرٹری  جہاں تک یاد پڑتا ہے،  عمران نقوی تھے۔  یہیں پہلی دفعہ انھیں دیکھا۔  قد ذرا چھوٹا،  بدن متناسب،  بیس بائیس کا سِن تھا۔  پروار میں  انھوں نے نہ صرف کئی برس  تک نائب  معتمدی کے فرائض  خوبی سے نبھائے بلکہ ساتھ ہی ساتھ اچھے  شعر بھی کہنا شروع کر دیے۔  اس وقت تک ابھی بی اے بھی نہیں کیا تھا۔ آفتاب ان کے بارے میں  پریشان رہتے تھے  اور چاہتے تھے کہ یہ تعلیم کے میدان میں آگے بڑھیں۔ خیر انھوں نے  لشتم پشتم بی اے بھی کر لیا  اور کچھ عرصے بعد بی ایڈ بھی  مگر ان کا غالب رجحانِ طبع  ادب کی طرف تھا۔  کچھ عرصے بعد معلوم ہوا  کہ نوائے وقت سے وابستہ ہو گئے  اور برادرم عطاء الحق قاسمی  کے زیر سایہ ادبی صفحے  کی تیاری میں  ان کی معاونت کرنے لگے ہیں۔  عطا صاحب کے  بعد ادبی صفحے کے انچارج ہو گئے۔ اسی زمانے میں شعر گوئی کے دوش بدوش  اہم ادبی شخصیات سے انٹرویو بھی کرنے لگے۔  پھر ایک عرصے بعد شامی صاحب کے  روزنامہ پاکستان  سے وابستہ ہوئے اور اس میں بھی  بھرپور اور  فکر افروز مصاحبے  شائع کیے تاہم اس بات کے  اکثر شاکی رہے کہ  پسینہ خشک ہونے سے پہلے تو کیا بعد میں بھی معاوضہ خاصی دیر سے ملتا ہے۔  نوائے وقت اور روزنامہ پاکستان میں ممتاز اہلِ قلم سے کیے ہوئے مصاحبے دو کتابوں “حرفِ ملاقات” اور “شرفِ ملاقات” میں سمو کر شائع کر دیے۔  یہ دونو کتابیں معاصر  اردو ادب اور  ادباء کے بارے میں  نہایت عمدہ اور  پوست کندہ  معلومات کا مخزن ہیں اور اردو ادب کا کوئی نقاد اور محقق ان کتابوں سے بے نیازانہ نہیں گزر سکتا۔  شاعری کی دو کتابیں ” خیمہ شام” اور “کل دی گل اے”  اس کے علاوہ ہیں۔

عمران نقوی یوں تو  صحافت اور ریڈیو پاکستان  لاہور کے  ادبی و علمی  پروگراموں سے ایک عرصے  تک وابستہ رہے  لیکن ان کا اوڑھنا بچھونا  اردو اور پنجابی ادب ہی تھا۔  آفتاب نقوی سے میرے  اچھے مراسم کے  باعث عمران نقوی  کا بھی مجھ سے بڑا ربط ضبط  رہا۔  مجھ سے ہمیشہ نیازمندانہ ملتے۔ آفتاب کی المناک شہادت کے بعد تو مجھ سے  اور زیادہ وابستہ ہوگئے۔  کئی نجی اور  علمی معاملات میں مجھ سے مشاورت کرتے۔  حال ہی میں ڈاکٹر طاہر مسعود کے  توسط سے شائع ہونے والے  میرے منتخب مصاحبوں کی کتاب  “مکالماتِ فراقی” میں  ان کے مجھ سے مختلف اوقات میں  کیے گئے ایک دو نہیں  اکٹھے پانچ مصاحبے شامل ہیں۔ انٹرویو کرنے لے لیے شخصیات ِ زیرِ مصاحبہ سے  بڑے بھرپور اور دبنگ انداز میں سوالات کرتے تھے ، کسی سے کم ہی دبتے جھجکتے تھے۔ مثلاً  مجھ سے کیے گئے چند سوالات کے تیور دیکھیے:  س، اقبالیات کے فروغ میں قوالوں کا کیا  کردار ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ کچھ قوال گا کر ، کچھ لکھ کر “اقبال شناسی” کا حق ادا کر رہے ہیں/ س:  ۱۹۵۰ء میں “حلقۂ ادبِ اسلامی” کی بنیاد رکھی گئی  لیکن  ۱۹۷۸ء میں اس کا نام “حلقۂ ادب” رکھ  دیا گیا۔ یہ تبدیلی کس خوف کے تحت عمل میں لائی گئی؟/ س:  تحسین فراقی سے تو ہم واقف ہیں لیکن  منظور اختر (راقم کا اصل نام) کے بارے میں کچھ نہیں جانتے؟ / س:  آپ نے شاعری سے بے وفائی کی؟ اور کس کس سے کی؟/ س:   آپ ایک اچھے نقاد ہیں اور کھل کر قہقہہ بھی لگاتے ہیں ، یہ تضاد کیوں؟/ س:  آپ  نے تو دریا بادی کو دریا برد ہونے سے بچا لیا  مگر تحقیق کے نام پر جو اتنے  سارے  عبد الماجد  دریا بادی دریا بُردہو گئے، ان کا  حساب کون دے گا؟ آخری سوال دراصل  مرحوم جعفر بلوچ  کے اس شعر کے حوالے سے تھا جو انھوں نے  میرے زیرِ تحقیق  پی۔ایچ۔ڈی  کے مقالے “عبدالماجد دریا بادی ــ احوال و آثار”  کے ضمن میں میری سست رفتاری اور آہستہ روی کے  ردعمل میں  کہا تھا  اور جو اگلے ہی چند روز میں زبان زدِ خاص و عام ہو گیا تھا:

؎       جب سے اے تحسین فراقی تیرے سپرد ہوا

عبدالماجد دریا بادی دریا بُرد ہوا

میں مجلس ترقی ادب سے وابستہ ہوا تو کچھ  عرصے بعد مجھ سے ملے  اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اس ادارے میں کسی  علمی پوسٹ پر آنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ چوں کہ صاحبِ علم آدمی تھے اور تدوین کا تجربہ رکھتے تھے، میں نے انھیں مجلس کے مشہور و معروف  علمی و تحقیقی مجلّے  “صحیفے ” میں بطور معاون مدیر تعینات کیا۔  ۲۰۱۴ ء میں آئے اور کم و بیش تین سال  اس خدمت پر مامور رہے۔  چونکہ کنٹریکٹ پر رکھے گئے تھے  اور معاوضہ کم تھا لہٰذا ایک دن مجھے اعتماد میں لے کر  پڑوس کے ادارے نظریۂ پاکستان  ٹرسٹ سے وابستہ ہو گئے۔  مجلس کے مقابلے  میں معاوضہ زیادہ تھا اور مجھے اطمینان ہوا کہ  مالی حالات جو زیادہ تر خراب رہتے تھے، نسبتہً بہتر ہو جائیں گے۔  مجلس سے رخصت ہوتے وقت ان پر شدید رقت طاری ہوئی اور میری آنکھیں بھی نم ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔

عمران نقوی اپنی مختصر زندگی میں کئی  نجی اور گوناگوں معاشی مسائل کا شکار رہے۔ نجی مسائل کی تفصیل کا تو محل نہیں ، مختصر یہ کہ گھر کا ماحول کشیدہ تھا۔  مزید یہ کہ دونوں صاحبزادیاں  لڑکپن ہی سے بیمار رہتی تھیں سو کئی دفعہ ہسپتالوں میں زیرعلاج رہیں۔  مجھے یاد ہے کہ مجلس میں عمران کی ملازمت کے زمانے میں بھی ان بچیوں  کا میو ہسپتال   میں کئی ہفتے علاج  ہوتا رہااور بالآخر صحت یاب ہو کر گھر لوٹیں۔ خود بھی ذہنی طور پر ناآسودہ رہے اور  کئی برس تک  لاہور کے ایک ادب شناس  نفسیاتی معالج   کے زیر علاج رہے  اور ان کی تجویز کردہ  دوائیں مسلسل کھاتے رہے۔  ایسی ادویات سے میرے خیال میں  ذہنی پریشانیاں دب تو جاتی ہیں  مگر بحیثیتِ مجموعی جسم میں آہستہ آہستہ خوفناک نقب  لگاتی رہتی ہیں۔  نتیجہ یہ ہوا کہ عمران  کی بصارت شدید طور پر  متاثر ہو گئی۔  یہاں تک کہ انھیں نظر کے چلے جانے کا گہرا   اندیشہ لاحق ہو گیا۔  یہ وہ زمانہ تھا جب وہ  مجلس سے مذکورہ دوسرے ادارے میں  منتقل ہو چکے تھے  ـــ  اور پھر ایک دن خبر ملی کہ وہ  اس ادارے سے بھی رخصت ہو گئے۔ اس بصری آشوب کے نتیجے میں سرور کائنات ﷺ سے ان کو غیر معمولی وابستگی پیدا ہوئی۔  اردو اور پنجابی شاعری تو وہ پہلے ہی کر رہے تھے  اور بلاشبہ اچھی کر رہے تھے مگر اس آشوب کے نتیجے میں زیارت حرمین شریفین نےجس سے وہ کئی دفعہ مشرف ہوئے، ان کی دنیا ہی بدل ڈالی اور اس کا حاصل اس  بہت ہی عمدہ  نعتیہ مجموعے وَجَب الشُّکرُعَلَیناً  کی صورت میں  ظہور میں آیا  جسے بغیر مبالغے کے  اردو کے نعتیہ ادب میں  خوبصورت اور جاندار اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے۔  اس مجموعے میں عمران نقوی نے بڑی سہولت سے گہری باتیں کہی ہیں۔  تازہ اسلوب اور اعلیٰ ہنر مندی سے گندھی یہ نعتیں  پڑھنے والے پر ایک  عالمِ کیف وارد کرتی ہیں۔  خصوصاً  نعتوں  کے مطلعے  بڑے توانا، بلیغ اور پر کشش ہیں  اور بعض شعروں میں تو  ضرب المثل بننے  کے امکانات موجود ہیں:

؎    خیالِ خواجہِ بطحا ﷺ میں شام کرتے ہوئے/  مہک رہا ہوں سحر سے کلام کرتے ہوئے/   بہارِعشقِ نبی ﷺ  معجزے دکھانے لگی/  مہک گلاب کی شاخِ خزاںسے آنے لگی/ بال و پر جب سے تیرے نام کیے/  وسعتِ آسمان دی تُو نے

 عمران نقوی ۲۶ نومبر  ۱۹۶۴ء کو  اس عالم آب و گِل میں وارد ہوئے  اور پچھلے برس ۳ ستمبر۲۰۲۰ء  کو  اچانک سکتۂ قلب سے انتقال کیا۔  یوں گویا چھپن برس کی قلیل عمر  پائی مگر شعر اور خصوصاً  نعتیہ شاعری کی صورت میں  ایک ناقابلِ فراموش سرمایہ چھوڑ گئے، جس سے اہلِ دل مستفید ہوتے اور  سر دھنتے رہیں گے۔  کیا عنایتِ الٰہی اور حضورﷺ سے والہانہ عشق کے بغیر ایسے  یقین بھرے شعر کہے جا سکتے ہیں:

؎         زہے نصیب کہ میں ہوں ثنا کے رستے  پر

      مرا    چراغ    جلے   گا    ہوا   کے   رستے    پر

——————————————————————–

سرخی: مرا چراغ جلے گا ہوا کے رستے پر!