آخرِ شب کا ہم سفر

یہ تحریر 335 مرتبہ دیکھی گئی

یونس جاوید نے “ایک چہرہ یہ بھی ہے” میں ایک بار پھر ان لوگوں کو یاد کیا ہے جن میں معدودے چند کےسوا اب شاید ہی کوئی ہمارے درمیان موجود ہو۔ محفل اجڑتی جا رہی ہے۔ رات کا پچھلا پہر ہے۔شیشے کی ایک دیوار ہے جس کی ایک طرف یونس جاوید چلتا جا رہا ہے اور دیوار کی دوسری طرف بہت سے لوگ ہیں جو کبھی صاف نظر آ جاتے ہیں، کبھی دھندلے دھندلے دکھائی دیتے ہیں اور کبھی اوجھل ہو جاتے ہیں اور رات کے آخری لمحات میں یونس جاوید قلم دوات لیے ان کا ہم سفر ہے۔ اس خیال سے ان کی باتیں کرتا ہے کہ شاید اپنے زورِ قلم سے کچھ مدت کے لیے انھیں پرانے اور نئے قارئین کے لیے زندہ رکھ سکے۔ وہ اچھے تھے یا کم اچھے تھے یا برے تھے، بہرطور صلاحیتوں سے عاری نہ تھے اور ان میں انسانیت کا جوہر تھا۔ کوئی جوہر سے مالامال، کسی میں جوہر کی رمق۔
پہلا خاکہ امتیاز علی تاج کا ہے۔ مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، کو ان سے زیادہ حلیم الطبع ناظم نصیب نہیں ہوا۔ اردو ڈراموں سے انھیں بہت لگاؤ تھا، خصوصاً ان ڈراموں کے متون سے جو انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں دکھائے جاتے تھے۔ تاج صاحب اردو کے اس سرمایے کو محفوظ کرنا چاہتے تھے۔ خود بھی ڈرامے دیکھتے رہے تھے اور تھیٹر کے معاملات سے ذاتی طور پر واقف تھے۔ یہ منصوبہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔ تاج صاحب کو اپریل 1970ء میں دو نقاب پوش آدمیوں نے، جو غالباً اجرتی قاتل تھے، بری طرح زخمی کر دیا اور وہ جاں بر نہ ہو سکے۔ پولیس نے یہ دعویٰ کیا کہ اس نے قتل کرنے والوں کا سراغ لگا لیا ہے۔ پولیس کی کارکردگی کے بارے میں یونس جاوید کا آخری جملہ کافی ہے: تاج صاحب کے قاتلوں کا سراغ آج بھی ایک راز ہے۔
مجلس ترقی ادب کے اگلے ناظم پروفیسر حمید احمد خاں تھے۔ ان کا مزاج مختلف تھا۔ بہت احتیاط پسند، وقت کے سختی سے پابند، اپنے لکھے سے پوری طرح مطمئن نہ ہونے والے۔ غصہ بھی آتا تو بس تھوڑی دیر کے لیے۔ دفتر کے چھوٹے سے چھوٹے ملازم کی عزت کو ملحوظ رکھتے۔ یونس جاوید خود بھی مجلس سے وابستہ تھا اور اس نے تاج صاحب اور حمید احمد خاں کو قریب سے دیکھا تھا۔ اس کے لکھے پر یقین کیا جا سکتا ہے۔ حمید احمد خاں صاحب کے اچانک انتقال کے بعد احمد ندیم قاسمی صاحب کو ناظم مقرر کیا گیا۔ یہ الگ کہانی ہے جسے یونس جاوید نے اپنی دوسری کتاب “صرف ایک آنسو!” میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔
احمد بشیر کے خاکے میں زور خوبیوں پر ہے، خامیوں پر نہیں۔ احمد بشیر کی سیاست فہمی اور فلم سازی کے فن کی باریکیوں سے باخبری کوئی خاص نہیں تھی۔ ان کی فلم “نیلا پربت” بالکل ناکام ثابت ہوئی۔ خود یونس جاوید نے اعتراف کیا ہے کہ یہ فلم اس نے کبھی دیکھنے کی زحمت نہیں کی۔ احمد بشیر کی سیاسی پیش گوئیاں اور اندازے اکثر غلط ثابت ہوتے تھے۔ ان کا ناول “دل بھٹکے گا” شاید ان کا سب سے وقیع کارنامہ ٹھیرے۔
سلیم شاہد کا خاکہ خوب ہے۔ سلیم شاہد کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جن کی شعر گوئی کی صلاحیت قدرت کی فیاضی کا نتیجہ نظر آتی ہے۔ عادات و اطوار سے، وضع قطع سے، گفتگو سے، جو خاصی پُرلطف ہوتی تھی۔ بالکل ظاہر نہ ہوتا تھا کہ یہ شخص اتنے کمال کےشعر کہہ سکتا ہے۔
نذیر ناجی کے بارے میں یونس جاوید نے صحیح لکھا ہے کہ “وہ بے پناہ ذہین آدمی ہے جسے کچھ سیاست اور کچھ صحافت نے ضائع کر دیا۔” عباس اطہر نے صحافت میں بلند مقام حاصل کرنے کی خاطر شاعری سے بے رخی اختیار کی۔ یہی نذیر ناجی نے بھی کیا۔ جواب میں وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے خود کو ضائع نہیں کیا، کامیاب زندگی گزاری۔
عطا الحق قاسمی، کمال احمد رضوی اور کنول فیروز کے خاکے بھی دل چسپی سے خالی نہیں۔ “چراغِ آخر شب” اپنی والدہ کے متعلق ہے۔ “سنگِ میل” 1965ء کی جنگ کے بارے میں ہے اور جنگ کے سترہ دنوں کی فضا کو گرفت میں لینے میں کامیاب ہے۔ وہ سچ مچ یادگار دن تھے اور محسوس ہوتا تھا کہ ہم متحد قوم ہیں۔ فوجی قیادت اس جذبے سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکی اور ناقص فوجی حکمتِ عملی کی وجہ سے کچھ بھی حاصل نہ ہوا۔ حاصل تو بھارت کو بھی کچھ نہ ہوا لیکن اس نے کشمیر کو ہاتھ سے نہ جانے دیا۔
“صرف ایک آنسو!” تشنہ سی آپ بیتی ہے۔ اس کے پہلے چالیس پچاس صفحوں میں یونس جاوید نے بتایا ہےکہ اس نے تعلیم کے مختلف مراحل کن صبر آزما اور نامساعد حالات میں طے کیے۔ باقی سو صفحے احمد ندیم قاسمی اور منصورہ احمد کی مزمت کے لیے وقف ہیں۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ جو حقائق بیان کیے گئے ہیں وہ درست ہیں یا غلط۔ مجھے اتنا معلوم ہے کہ قاسمی صاحب نے ایک معمولی شاعرہ کی حد سے زیادہ ناز برداری کی۔ اس کے کلام کو خواہ مخواہ سراہا اور دوسرے ادیبوں سے بھی کہا کہ شاعرہ کی تعریف میں مضامین لکھیں اور انھوں نے مروتاً ایسا کیا بھی۔ یہ ایک افسوس ناک باب ہے جسے اب ختم سمجھنا چاہیے۔
ایک چہرہ یہ بھی ہے از یونس جاوید
ناشر: جمہوری پبلی کیشنز، لاہور
صفحات: 160؛ چار سو ساٹھ روپیے
صرف ایک آنسو! از یونس جاوید
ناشر: دوست پبلی کیشنز، اسلام آباد
صفحات: 140؛ چار سو روپیے